:
Breaking News

Jharkhand News: JPSC-JSSC امتحانی دھاندلی معاملہ، ابھیے تیواری کے بھائی اکشے اور اہلیہ سشما گرفتار

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Alam Ki Khabar | Bihar News | Patna News | Samastipur News | جھارکھنڈ کے JPSC-JSSC امتحانی دھاندلی معاملے میں CID نے ابھیے تیواری کے بھائی اکشے تیواری اور اہلیہ سشما کماری کو گرفتار کر لیا۔

رانچی، 18 اگست۔ جھارکھنڈ میں سرکاری ملازمتوں سے متعلق مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تفتیش اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ JPSC امتحانی معاملے میں گرفتار TDPL کے مارکیٹنگ مینیجر ابھیے تیواری کے بعد اب ان کے بھائی اکشے تیواری اور اہلیہ سشما کماری کو بھی CID نے گرفتار کیا ہے۔ دونوں پر الزام ہے کہ انہوں نے JSSC-CGL امتحان میں مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے کامیابی حاصل کی۔ معاملے کی تفتیش کے دوران دونوں سے الگ الگ پوچھ گچھ کی گئی، جس کے بعد گرفتاری عمل میں لائی گئی۔

ذرائع کے مطابق ابھیے تیواری کی گرفتاری کے بعد تفتیشی ایجنسی کو ان کے رابطوں، امتحانات میں ان کی مبینہ سرگرمیوں اور ان سے وابستہ دیگر افراد کے بارے میں اہم معلومات ملی تھیں۔ تفتیش میں JSSC-CGL امتحان کا پہلو بھی سامنے آیا، جس کے بعد اکشے تیواری اور سشما کماری کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا گیا۔ 

بھائی اور اہلیہ کی کامیابی بھی تفتیش کے دائرے میں

CID کی تفتیش میں یہ الزام سامنے آیا ہے کہ ابھیے تیواری نے مبینہ طور پر اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی مسابقتی امتحانات میں کامیابی دلانے میں مدد کی۔ تفتیشی معلومات کے مطابق ابھیے تیواری خود بھی JSSC-CGL امتحان میں کامیاب ہوئے تھے، جبکہ ان کے بھائی اکشے تیواری اور اکشے کی اہلیہ سشما کماری نے بھی اسی امتحان کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کی تھی۔

رپورٹس کے مطابق اکشے تیواری اس وقت خواتین و اطفال ترقیاتی محکمہ میں JSA کے عہدے پر تعینات ہیں، جبکہ سشما کماری کا تعلق ویجیلنس محکمہ سے بتایا گیا ہے۔ تاہم ان تقرریوں اور امتحانی کامیابی کے حوالے سے حتمی قانونی نتیجہ تفتیش اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ 

دیوگھر سے لائی گئی جوڑی، الگ الگ ہوئی پوچھ گچھ

معلومات کے مطابق منگل کو گریڈیہ پولیس کی خصوصی ٹیم دیوگھر پہنچی اور اکشے تیواری اور سشما کماری کو پوچھ گچھ کے لیے اپنے ساتھ لے گئی۔ دونوں سے الگ الگ مقامات پر تفتیش کی گئی۔ تفتیش کار یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ مبینہ طور پر امتحانی عمل میں کس طرح مدد فراہم کی گئی اور اس سلسلے میں مزید کون لوگ شامل ہوسکتے ہیں۔

CID پہلے ہی ابھیے تیواری کو JPSC میرٹ گھوٹالے کے سلسلے میں گرفتار کرچکی ہے۔ تفتیش کے دوران ان کے خلاف امتحانی عمل میں مبینہ مداخلت اور امیدواروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچانے سے متعلق الزامات کی جانچ کی جارہی ہے۔ ابھیے تیواری TDPL سے وابستہ رہے ہیں، جو JPSC امتحان کے انعقاد سے متعلق کام میں شامل ادارہ بتایا جاتا ہے۔ 

JSSC-CGL بھی سوالوں کے گھیرے میں

اس معاملے کا ایک اہم پہلو JSSC-CGL امتحان بھی ہے۔ تفتیشی معلومات کے مطابق ابھیے تیواری نے پوچھ گچھ کے دوران مبینہ طور پر JSSC-CGL میں سوالات اور جوابات پہلے سے امیدواروں تک پہنچنے سے متعلق معلومات دی تھیں۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بوکارو میں کچھ امیدواروں سے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی گئی اور انہیں سوالات و جوابات یاد کرائے گئے تھے۔ ان دعوؤں کی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔ 

تفتیش میں مزید نام سامنے آنے کا امکان

اکشے تیواری اور سشما کماری کی گرفتاری کے بعد اب تفتیشی ایجنسی اس بات پر توجہ دے رہی ہے کہ امتحانی عمل میں مبینہ طور پر کس سطح تک نیٹ ورک فعال تھا۔ اگر تفتیش میں مزید شواہد ملتے ہیں تو اس معاملے میں دیگر افراد سے بھی پوچھ گچھ یا گرفتاری ہوسکتی ہے۔

یہ معاملہ اس लिहाज से بھی اہم माना जा रहा है क्योंकि جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC امتحانات کی شفافیت کو لے کر طلبہ مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ رانچی میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے احتجاج بھی سامنے آچکے ہیں، جہاں امیدواروں نے شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

فی الحال CID کی کارروائی جاری ہے۔ اکشے تیواری اور سشما کماری کے خلاف لگائے گئے الزامات کی مکمل حقیقت تفتیش، دستیاب شواہد اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔ کسی بھی ملزم کو عدالت سے جرم ثابت ہونے تک قانونی طور پر مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

یہ بھی پڑھیں

JPSC امتحان معاملہ: CID تفتیش میں روز سامنے آ رہے نئے حقائق، کئی نام زیرِ تفتیش

JPSC-JSSC معاملے پر طلبہ کا احتجاج، امتحانی نظام میں شفافیت کا مطالبہ

امتحانی نظام کی شفافیت پر پھر اٹھے سوال

سرکاری ملازمت کے لیے ہونے والے مسابقتی امتحانات نوجوانوں کے مستقبل سے براہ راست جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر کسی امتحان میں سوالنامہ افشا ہونے، غیر قانونی طریقے سے کامیابی حاصل کرنے یا امیدواروں کو خصوصی فائدہ پہنچانے کے الزامات سامنے آتے ہیں تو اس کا اثر صرف چند امیدواروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے نظام پر اعتماد کو متاثر کرتا ہے۔

JPSC-JSSC معاملے میں ایک کے بعد ایک سامنے آنے والی معلومات نے طلبہ کے خدشات کو مزید گہرا کیا ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر الزام کی غیر جانب دارانہ جانچ کریں اور اگر کسی شخص کے خلاف قابلِ اعتماد شواہد ملتے ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ محض الزامات کی بنیاد پر کسی کو مجرم قرار نہ دیا جائے۔ شفاف تحقیقات، ڈیجیٹل اور دستاویزی شواہد کی جانچ اور عدالتی عمل ہی کسی نتیجے تک پہنچنے کا درست راستہ ہے۔

سرکاری امتحانات کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امتحانی مراکز، سوالنامے کی پرنٹنگ، ڈیجیٹل سکیورٹی، بایومیٹرک تصدیق اور نتائج کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ نوجوانوں کا اعتماد اسی وقت بحال ہوگا جب انہیں یقین ہو کہ سرکاری ملازمت کا دروازہ سفارش، پیسے یا رسوخ سے نہیں بلکہ میرٹ سے کھلتا ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *